تدوین حدیث
Books & Reference
tadween e hadith
- Downloads
- 1+
- on Google Play
- Price
- Free
- No in-app purchases
- Updated
- Oct 16
- 2023 · v1.0
Screenshots
About تدوین حدیث
دورِجدید میں بعض تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔کیونکہنبی ﷺ کے عہد بابرکت میں حدیث و سنت کی تدوین کا سلسلہ ایک خاص انداز میں شروع ہو گیا تھا اور صحابہ کرام نے اس کی حفاظت و صیانت کو اپنا مقصد حیات قرار دے لیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى القرآن فليمحه (مسند أحمد)’’مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بات لکھی ہو اسے چاہیے کہ مٹا دے۔‘‘رسول اللہ ﷺکا یہ حکم سن 7 ہجری تک برقرار رہا، لیکن جب قرآن کی حفاظت کے تئیں اللہ کے رسول ﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا تو اپنے ساتھیوں کو احادیث بھی قلمبند کرنے کی عام اجازت دے دی، صحابہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو آپ کی باتیں سننے کے بعد انہیں باضابطہ لکھ لیا کرتے تھے۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، لوگوں نے مجھے روکا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺایک انسان ہیں، کبھی خوشی کی حالت میں باتیں کرتے ہیں تو کبھی غصہ کی حالت میں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اكتب فوالذي نفسي بيده لا يخرج منه إلا حق (رواه أبو داود والحاكم)“لکھ لیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘اسی طرح سیدنا ابوهریرہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے (فتح مکہ کے موقع پر) ایک خطبہ دیا. ابو شاہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میرے لئے لکھوا دیجئے، آپ نے کہا: أكتبوا لأبي شاة اسے ابوشاہ کے لیے لکھ دو. (بخاری، مسلم)رسول اللہ ﷺکے انتقال کے بعد قرآن جھليوں، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، صحابہ نے اسے جمع کردیا، لیکن حدیث کو جمع کرنے کی طرف صحابہ کا دھیان نہیں گیا لیکن وہ زبانی طور پر ایک دوسرے تک اسے پہنچاتے رہے، اس کے باوجود کچھ صحابہ نے جو حدیثیں لکھی تھیں ان میں سے کچھ صحيفے مشہور ہو گئے تھے. جیسے ’’ صحیفہ صادقہ‘‘ جو ایک ہزار احادیث پر مشتمل عبداللہ بن عمرو بن عاص عنہ کا صحیفہ تھا، اس کا زیادہ تر حصہ مسند احمد میں پایا جاتا ہے، ’’صحیفہ سمرہ بن جندب ‘‘، ’’صحیفہ سعد بن عبادہ‘‘ ،’’ صحیفہ جابر بن عبداللہ انصاری ‘‘۔ جب مختلف ممالک میں اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور صحابہ کرام مختلف ملکوں میں پھیل گئے، پھر ان میں سے زیادہ تر لوگ وفات پاگئے اور لوگوں کی یادداشت میں بھی کمی آنے لگی تواب حدیث کو جمع کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا، لہذا سن 99 ہجری میں جب عمر بن عبدالعزیز مسلمانوں کے خلیفہ بنے اور مسلمانوں کے احوال پر نظر ڈالی جس سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ احادیث کی تدوین کا بندوبست کیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے حکام اور نمائندوں کو اس کا حکم دیتے ہوئے لکھا اور تاکید کی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے کا کام شروع کر دیا جائے، جیساکہ آپ نے مدینہ کے قاضی ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ: ’’تم دیکھو، اللہ کے رسول ﷺکی جو حدیثیں تمہیں ملیں انہیں لکھ لو کیوں کہ مجھے علم کے ختم ہونے اور علماء کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اسی طرح آپ نے دوسرے شہروں میں بھی ائمہ اور محدثین کو خطاب کیا کہ رسول اکرم ﷺکی حدیثیں جمع کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب تیسری صدی آئی تو اس میں احادیث جمع کرنے کا ایک الگ طریقہ مشہورہوا کہ محض اللہ کے رسول ﷺ کی حدیثیں جمع کی گئیں، اور ان میں صحابہ کے قول اورو فعل کو شامل نہیں کیا گیا. اور صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے. جیسے فلاں نے فلاں سے کہا اور فلاں نے فلاں سے کہا کہ میں نے اپنے کانوں سے محمد ﷺکو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے.
Alternatives to تدوین حدیث
Looking for apps like تدوین حدیث? Here are 6 similar Android apps on Google Play. All of them are free to download.
-
صحیح آداب و اخلاق
-
تعلیم الاسلام
-
حیات مسیح اور ختم نبوت
-
موت کے سائے
-
اعانۃ الراجی علی تصریح السراجی
-
امام بخاری کا منہج
| App | Rating | Price | Installs | Last updated | Compare |
|---|---|---|---|---|---|
| تدوین حدیث | – | Free | 1+ | Oct 16, 2023 | |
| صحیح آداب و اخلاق | – | Free | 100+ | Jun 27, 2023 | Compare |
| تعلیم الاسلام | – | Free | 100+ | Jun 28, 2023 | Compare |
| حیات مسیح اور ختم نبوت | – | Free | 0+ | – | Compare |
| موت کے سائے | – | Free | 1+ | Oct 25, 2023 | Compare |
| اعانۃ الراجی علی تصریح السراجی | – | Free | 0+ | – | Compare |
| امام بخاری کا منہج | – | Free | 1+ | Oct 24, 2023 | Compare |
Compare تدوین حدیث with the top alternatives: ratings, updates, ASO score and keyword gaps →
Similar apps on Google Play
- صحیح آداب و اخلاق
- تعلیم الاسلام
- حیات مسیح اور ختم نبوت
- موت کے سائے
- اعانۃ الراجی علی تصریح السراجی
- امام بخاری کا منہج
- قرآنی شمعیں
- توحید خالص اور اس کے تقاضے
- تاریخ حرمین شریفین
- اصول التخریج
- دلائل ہستی باری تعالیٰ
- جانب حلال
- رفع یدین اور آمین
- پیغام جیلانی
- شان رب العالمین
- اخلاق العلماء
- شرعی پردہ
- اسوۂ حسین
- مسئلہ وسیلہ کی شرعی حیثیت
- عیسائی بھائیوں کو دعوت اسلام
- شرک کیا ہے
- عربی اردو بول چال
- اردو مختصر نویسی
- تنبیہ الغافلین
- بائبل کیا ہے
- اہمیت حدیث
- رسالہ عمل بالحدیث
- تنویر المراءت شرح ضیاء القراءت
- رسالۂ حرمت متعہ
- تحفہ حدیث
- تدوین حدیث
- رسومات محرم اور تعزیہ داری
- وضو کے فیوض و برکات
- صراط مستقیم اور شیطانی راستے
- مقبول ربانی کی مقبول نماز
- فارسی کا آسان قاعدہ
- ضیاء الصلوۃ
- مبادیات تبلیغ
- مراۃ الزکوۃ
- فرضیت فاتحہ
- تعلیم نماز
- نماز میں سورہ فاتحہ
- مختصر شعب الایمان اردو
- لڑکی شادی کیوں کرتی ہے
- قرآنی وظائف
- خواہش سے ارادے تک
- امہات المؤمنین
- خلق عظیم ﷺ
- اصلاح معاشرہ
- عقیدۃ المؤمن
- محاضرات معیشت و تجارت
- عیسیٰ ابن مریم اور عیسائیت
- فصل الخطاب فی فضل الکتاب
- احسن التجوید
- فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر
- قرآنی قاعدہ مفتاح القرآن
- احیائے اسلام اور معلم
- فرقہ ناجیہ بجواب طائفہ منصورہ
- مسلمان تاریخ نویس
- تاریخ تفسیر و اصول تفسیر
- اسیران روشن خیالی
- ہمارے رسول پاک ﷺ
- فضائل سیدنا ابوبکر صدیق ؓ
- مولانا محمد علی جوہر
- اسلام کا نظریہ تاریخ
- اسلامی بم کا خالق کون
- سرور دو عالم ﷺ کا پیغام آخریں
- قرآن اور پیغمبر
- آبرو کی حفاظت
- بستان الاربعین
- شاگرد کو استاد کی چند نصیحتیں
- پیارے رسول ﷺ کے دن رات
- جشن عید میلاد
- حیات سیدنا مسیح علیہ السلام
- ام الکتاب میں اللہ کا تعارف
- اثبات اعادہ روح
- حرمت متعہ بجواب جواز متعہ
- آفتاب ہدائیت رد ِّرفض وبدعت
- شمع توحید
- سکون کا رشتہ
- جنت اور جہنم کی راہیں
- کرسمس عیسائیت سے مسلمانوں تک
- مسلمان استاد
- رسالہ توحید و رد شرک
- دیوان المتنبی
- تعلیم العربیہ
- نگارستان
- یہودیت تاریخ، فطرت اور عزائم
- احادیث مزارعت کا ایک مطالعہ
- سنتیں جو چھوڑ دی گئیں
- اسلام میں مشورہ کی اہمیت
- استقامت
- اسلامی آداب
- حرمت آواز و ساز
- اسلامی تعلیم
- گردن کا مسح ایک تحقیقی جائزہ
- خواتین اسلام کے نام دس نصیحتیں
- کامیابی کا پیغام
- سنت و بدعت کی کشمکش
- سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات
- تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ
- مومنات کا پردہ اور لباس
- شب برأت حقیقت کے آئنے میں
- سینما سے مسجد تک
- دین مبین
- بائبل کے اختلافی مسائل
- الدین الخالص قسط 2
- شہسوار صحابہ رضی اللہ عنہم
- مومنات کی محبت بھری نماز
- عیسائیت کی سرگرمیاں
- ڈھول کا پول
- مسلمان عورت
- عفت و عصمت کی حفاظت مگر کیسے؟
- میں نماز کیوں پڑھتا ہوں
- حزب اللہ کیماڑی کا تعارف
- خلاصہ مضامین قرآن
- معاشرے کے مہلک گناہ
- منتخب عربی اشعار
- اسلام اور جدید میڈیکل سائنس
- جنتی گروہ
- ابراء اہل الحدیث والقرآن
- نصیحت
- اسلام کا نظریہ محنت
- مختصر اظہار الحق
- فاتحہ خلف الامام
- قادیانی غیر مسلم کیوں
- تجلیات ختم نبوت
- شیعہ سنی مفاہمت ایک جائزہ
- صحیح اسلامی واقعات
- روشنی اور اندھیرہ
- احکام النسبۃ
- اردو شرح مراح الارواح
- بس یہی دل
- غیبت یا دونوں جہاں کی مصیبت
- عربی انگلش اردو بول چال
- جاہلیت اور قرآن
- حدائق بخشش کا ایک جائزہ
- اولیاء حق و باطل
- توحیدی چمکاں
- مشاہد التوحید
- ضرب الامثال اور محاورات
- رسول اللہ ﷺ کی سیاسی زندگی
- توضیح النحو باجراء قواعد النحو
- تنویر شرح نحو میر
- دیوان حضرت علی ؓ
- نیک ماؤں کا مثالی کردار
- مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ
- شراب سے علاج کی شرعی حیثیت
- کتاب التوحید
- اسلام اور حدود و تعزیرات